Monday, February 16, 2009

PSF Current Policy


وجودہ عہد اور پی ایس ایف کا لائحہ عمل

تاریخ کے ہر عہد کا اپنا مخصوص کردار اور کیفیتےں ہو تی ہیں ۔ تاریخ کے کسی بھی عہد کے کردار اور اس کے مستقبل کے تناظر کو سمجھے بغیر اس کو بدلنے میں کوئی کردار ادا نہیں کیا جاسکتا۔اسی طرح ہر عہد کے اپنے نظریات ہوتے ہیں جو اس عہد کو سمجھنے اور اس کی وضاحت کرنے کی اہلیت رکھتے ہیں ۔انقلابیو ں کا اولین فریضہ یہ ہو تا ہے کہ وہ جس عہد میں زندہ ہوتے ہیں سب سے پہلے اس عہد کی اپنی مخصوص کیفیات اور کردار کو اس کے تاریخی تسلسل کے پس منظر میں سمجھتے ہوئے اس کے مستقبل کا تناظر تخلیق کریں اور پھر اس تناظر کے مطابق اپنے انقلابی کردار کا تعین کریں ۔آج کے جدید سائنسی دور میں کسی بھی چیز کی درست وضاحت صرف سائنسی بنیادوں پر ہی ممکن ہے ۔ جو سائنس ہمیں انسانی سماجوں کے ارتقاء،عروج و زوال اور تبدیلیوں کے عمل کی درست سمجھ بوجھ اور وضاحت کرنے میں مدد دیتی ہے، وہ سائنسی سوشلزم ہے ۔بھٹوازم کے نظریات کا بنیادی اصول یہ ہے کہ اس کائنات کی ہر شے بشمول انسانی سماج ہر لمحہ حرکت اور تبدیلی کے مسلسل عمل سے گزر رہی ہے اور کوئی بھی شے حتمی یا مقدس نہیں ہے۔اگر موجودہ دنیا کو دیکھا جائے تو اکیسویں صدی کے آغاز پر ہمیں پوری دنیا میں جو جنگیں ، خو نریزیاں ، دہشت گردی ، بھوک ، بیروزگاری ،افلاس اور عدم استحکام نظر آتاہے وہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ عالمی سطح پر سرمایہ دارانہ نظام اپنے زوال کی انتہاﺅں کو چھو رہاہے اور اب اس میں انسانیت کو ترقی دینے اور ان کے مسائل حل کرنے کی معمولی سی گنجائش بھی باقی نہیں بلکہ سرمایہ دارانہ نظام کا وجود ہی مسائل کا باعث بن رہا ہے ۔دوسری جانب سرمایہ دارانہ گلوبلائزیشن نے پوری دنیا کو معاشی ،سماجی ،سیاسی اور ثقافتی ہر حوالے سے ایک ایسی اکائی بنادیاہے جہاں دنیا کے کسی بھی خطے میں رونما ہونے والا کو ئی واقعہ ، حادثہ یا تبدیلی پوری دنیاپر اپنے اثرات مرتب کرتا ہے۔دنیا کی سب سے بڑی صنعتی ،معاشی ،سیاسی اور فوجی طاقت امریکہ ،عراق ،افغانستان اور دیگر خطوں کے معصوم انسانوں اور تہذیبوں کو برباد کر کے سرمایہ داری کی لاش کی اکھڑی ہو ئی سانسوں کو بحال کرنے کی کوشش کر رہا ہے ۔۔ایک جانب ٹیکنالوجی ترقی کے اس معیار کو چھو رہی ہے کہ انسان چاند ،مریخ اور اس سے دور دراز سیاروں پر زندگی کے آثار تلاش کررہاہے تو دوسری جانب اس کرہ ارض پر نسل انسانی کی آدھی سے زیادہ آبادی بھوک اور بیماری سے سسک سسک کر مرنے کے لیے جی رہی ہے اور جینے کے لیے مررہی ہے۔حالانکہ صرف ایک نیسلے کی کمپنی پوری دنیا کی خوراک کی ضرورتیں پوری کر سکتی ہے۔ اگر اس ٹیکنالو جی کو سرمایہ داری کی منافع کی ہوس پوری کرنے کی بجائے سوشلزم کے ذریعے انسانوں کے مسائل کو حل کرنے اور ان کے معیار زندگی کو بہتر بنانے کے لیے استعمال کیا جائے تو صرف دس سال میں اس کرہ ارض سے سرمایہ داری کی پیدا کردہ غربت ، جہالت ، بیماری ، دہشتگردی اور جرائم سمیت تمام مسائل کا نشان تک مٹاکر اس کرہ ارض کو انسانوں کے لیے حقیقی جنت بنایا جاسکتا ہے۔ عالمی سطح پرہم ایک ایسی کیفیت میں داخل ہو چکے ہیں جہاں ایک جانب مرتا ہوا سرمایہ داری نظام اپنے ساتھ انسانی نسل کو بھی بربادی کی جانب دھکیل رہا ہے تو دوسری جانب وینزویلا سمیت پورے لاطینی امریکہ کے محنت کش عوام اور نو جوان سرمایہ داری نظام کے خلاف بغاوت میں اٹھ کھڑ ے ہوئے ہیں اور ان کی جرات مند مزاحمت نے ثابت کر دیا ہے کہ جب محنت کش عوام اور نو جوان بغاوت میں اٹھ کھڑے ہو تے ہیں تو ان کو دنیا کی سب سے بڑی فوجی طاقت اپنی وحشیانہ بمباری کے ذریعے بھی کچل نہیں سکتے۔ تمام ترعالمی ،مالیاتی و سامراجی ادارے آئی ایم ایف ورلڈ بینک ڈبلیو ٹی ٰ او، اپنی قاتلانہ معاشی پالیسےوں ڈاون سائزنگ ، نجکاری وغیرہ کے ذریعے محنت کش طبقے ، نوجوانوں اور طالب علموںکو بر باد کرتے جا رہے ہیں ۔ اقوام متحدہ ایک بیکار اور سامراج کے دلال اور مفلوج ادارے کے طورپربے نقاب ہو چکاہے اور اس میں کشمیر اور فلسطین سمیت کسی بھی مسئلے کو حل کرنے کی اہلیت نہیں ہے۔ ہم عراق ، افغانستان اور دیگر خطوں پر سامراجی قبضے کی مذمت کرتے ہیں اور غیر ملکی افواج کے فوری انخلا ءکا مطالبہ کرتے ہیں۔ہم عالمی سطح پر سرمایہ داری اور سامر اج کے خلاف ابھرنے والی محنت کشوں اور مظلوموں کی تمام تحریکوں اور لڑائیوں کی مکمل حماےت کرتے ہیں۔چونکہ سرمایہ داری نظام اور عالمی سامراج ہی پاکستان سمیت دنیا بھر کے مظلوم، محکوم اور استحصال کا شکار عوام کی غلامی اور مصائب کا اصل سبب ہے۔ سرمایہ داری نظام کو عالمی سطح پر شکست دیے بغیر سوشلزم کی تعمیر اور نسل انسانی کی حقیقی آزادی ممکن نہیں ۔ موجودہ عہد کی سب سے بنیادی خاصیت یہی ہے کہ اس عالمگیرےت کے عہد میں جہاں استحصال اور جبر وغلامی بین الاقوامی ہے تو اس استحصال اور غلامی کے خلاف ابھرنے والی محنت کشوں اور نوجوانوں کی تحریک کا کردار بھی بین الاقوامی ہے۔اسی بنیاد پر پی ایس ایف یہ سمجھتی ہے کہ پاکستان کے طلباءکی تحریک کو فتح مند کرنے کے لیے برصغیر اور دنیا بھر کے طلباءاور محنت کشوں کی تحریکوں سے طبقاتی جڑتبناتے ہوئے سرمایہ داری کے خاتمے اور عالمی سوشلسٹ انقلاب کی جدوجہد کرنا ہو گی۔سرمایہ دارانہ ریاستےں انسانوں کو تقسیم کر کے ان کو ایک دوسر ے کا دشمن بناتی ہیں جبکہ سوشلزم کا مقصد انسانوں کے درمیان تمام تفریقوں اور تقسیمو ں کو مٹاتے ہو ئے عظیم عالمی انسانی یکجہتی کو فروغ دیناہے۔یہی وہ فریضہ ہے جس کی تکمیل کا آغاز طلاب علموں اور نوجوانوں نے کردیا ہے اور جس کی تکمیل دنیا بھر کے محنت کش ، طالبعلم اور نوجوان کریں گے۔سوشلزم کا علم تھامے آگے بڑھو! آخر ی فتح ہمارا مقدرہے۔ ۔۔۔۔۔۔ عالمی برادری اور ہمارا مو¿قف ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ٭ ہم عالمی سامراج کو کرہ ارض پر ناسور تصور کرتے ہیں اور دنیا بھر میں عالمی سامراج کے خلاف برسر پیکار قوتوں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ۔۔۔۔۔۔۔ عالمی سامراج کا وجودہی دنیا بھر میں بھوک ، ننگ، افلاس، قحط ، جنگ، استحصال ، ظلم ، جبر ، بربریت اور سماجی نا انصافی کا باعث ہے ۔ چنانچہ ہم عالمی سامراج کو نیست ونابود کرنے کی خاطر دنیا بھر میں طا لب علمو ں، مزدوروں اور کسانوں کے اتحاد کے پرچم تلے جدوجہد کے داعی ہیں ۔۔۔۔۔۔۔ ٭ ہم غیر متزلزل یقین رکھتے ہیں کہ سوشلزم ہی دنیا کو ناامیدی اور یاسیت کے گھٹاٹوپ اندھیروں سے نکال سکتاہے۔سوشلزم ہی انسانیت کی بقاءکا ضامن ہے ۔ چنانچہ ہم عملی طور پرسوشلزم کی جدوجہد کی حمایت کرتے ہیں اور اپنے آپ کو عالمی سوشلسٹ انقلاب برپا کرنے کے لیے کی جانے والی جدوجہد کااٹوٹ انگ گردانتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ٭ تمام نام نہاد غیر جانبدار عالمی ادارے (اقوام متحدہ وغیرہ) عالمی سامراج کے آلہ کا رہیں اس لیے عالمی سطح پر ان ادارو ں کی بجائے محنت کش طبقے کی انقلابی تحریکوں سے جڑتبناتے ہوئے سو شلسٹ انقلاب کو جاری رکھناہم اپنا بےن الاقوامی فرےضہ سمجھتے ہےں

0 comments:

Post a Comment